دنیا پر قبضے کا الومیناتی منصوبہ


امریکا کا اصل حکمران ’کونسل آف فارن ریلیشنز ‘ نامی خفیہ ادارہ ہے جسکا مخفف سی ۔ایف ۔آر۔ ہے بظاہر یہ ایک امریکی تھنک ٹینک ہے لیکن در حقیقت یہ امریکا میں ایک چھپی ہوئی حکومت ہے ایسی حکومت جو دجال کی راہ ہموار کرنے کے لئے دنیا کے سب سے ترقی یافتہ براعظم کو استعمال کر رہی ہے ۔ اس کے قیام میں عالمی یہودی بینکروں اور الومیناتی صیہونیوں کا ہاتھ تھا جن میں جیکب شف ، پال واربرگ، جان ڈی راکفیلر اور جے پی مورگن جیسے بین الا قوامی بینکر تھے۔ وہی لوگ جنہوں نے فیڈرل ریزو سسٹم کے تحت امریکا کو اپنا غلام بنا لیا ۔ اس راز کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں ’الومیناتی ‘ نامی اصطلاح سے واقفیت حاصل کرنا ہوگی۔

الومیناتی کیا ہے:
الومیناتی کا قیام یکم مئی ۱۷۷۶ء کو ان یہودیوں کے ہاتھ عمل میں آیا تھا جو دجال کو مسیحا اور نجات دہندہ مانتے ہیں ۔ اس کا بانی ڈاکٹر ایڈم ویرشیپٹ تھا جو کہ باویریا (یہ جرمنی کا ایک سب سے مظبوط اور طاقتور صوبہ ہے ) کی اینگولسسٹیڈیونیورسٹی کا ایک پروفیسر تھا ۔ یہ شخص ویسے تو ایک کٹر یہودی تھا لیکن بعد میں یہود کی روایتی دروغ گوئی کے مطابق اس نے اپنا اصل مذہب چھپانے کے لئے کیتھولک مذہب اپنا لیا تھا ۔ وہ ایک سابقہ جیسٹ پریسٹ تھا جو کہ اس آرڈرسے الگ ہو گیا تھا اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی تنظیم بنا لی تھی۔ الومیناتی کا لفظ لوسیفر سے اخذ کیا گیا ہے جس کا انجیل کے مطابق مطلب ہے ’روشنی کو اٹھانے والا اور حد سے زیادہ ذہین ‘۔ لوسیفردرحقیقت انجیل اور تورات میں ابلیس کو دیا ہوا نام ہے ۔
ویرشیپٹ اور اس کے پیروکار اپنے آپ کو چند چنے ہوئے لوگوں میں سے سمجھتے تھے ۔ ان کے زعم کے مطابق ان کے پاس یہ صلاحیت تھی کہ صرف وہی دنیا پر حکمرانی کرنے کے اہل ہیں اور کرہ ارض پر امن قائم کر سکتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا مقصدنیرس آرڈر سیکلرم کا قیام تھا ۔
نولس آرڈر سیکلرم کا مطلب ہوتا ہے نیو سیکولر آرڈر۔یہی لفظ فری میسن کے لاجز اور امریکی ایک ڈالر کے نوٹ پر لکھا ہوتا ہے ۔ واضح رہے کہ اگرچہ اس کا مفہوم نیو ورلڈ آرڈرضرور ہے لیکن اس کا مطلب ایک عالمی لا دینی (سیکولر )طرز حکومت کا قیام ہے ۔
اس تنظیم سے وابستہ ہونے والے لوگوں (یعنی الومیناتی کے نچلے درجے کے افراد ) کو بتایا گیا تھا کہ الومیناتی کا مقصد انسانی نسل کو قوم ، حیثیت اور پیشے سے بالا تر ہو کر ایک خوشحال خاندان میں تبدیل کرنا تھا۔ اس کام کے لئے ان سے ایک حلف بھی لیا گیا تھا جو کہ فری میسن کے حلف کی طرح ہوتا ہے جب تک کارکنوں کی وفاداری کو جانچ نہیں لیا گیا تھا، اس وقت تک ان کو الومیناتی میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور جب تک کوئی رکن الومیناتی کے بالکل اندرونی حلقے تک نہیں پہنچ جاتا تھا، اس وقت تک اسے ادارے کا مقصد نہیں بتایا جاتا تھا۔
اس تنظیم کے مقاصد درج ذیل ہیں۔
تمام مذاہب کا خاتمہ ۔
تمام منظم حکومتوں کا خاتمہ ۔
حب الوطنی کا خاتمہ۔
تمام ذاتی جائیداد کا خاتمہ۔
خاندانی ڈھانچہ کا خاتمہ۔

نیو ورلڈ آرڈر کا قیام یا ایک ’بین الا قوامی حکومت ‘ کا قیام جسے آپ عالمی ’دجالی حکومت ‘ کہ سکتے ہیں۔
فطری طور سے اس تنظیم کے اصل مقاصد کو تمام ممبران کے سامنے نہیں رکھا جاتا تھا اور انہیں صرف اسی بات پر صبر کرنا پڑتا تھا کہ اس تنظیم کا مقصد انسانی نسل کی خوشحالی ہے ، لیکن ان سب میں ایک چیز سب سے زیادہ حیرت انگیز ہے جس پر خود الومیناتی کے راہنما نے لکھا:
’سب سے زیادہ خوش آیند بات یہ ہے کہ بڑ ے بڑے پروٹیسٹنٹ اورریفارمڈفرقے کے عیسائی پادری جنہوں نے ہماری تنظیم میں شمولیت اختیارکی ہے وہ ہمیں ایک سچے اور خالص عیسائی کی نظر سے دیکھتے ہیں‘
اس پلان کو جرمنی کے پروٹیسٹنٹ حکمرانوں کے یہاں بڑی پذیرائی ملی جس کے تحت کیتھولک چرچ کی تباہی کو یقینی بنادیا گیا تھا اور انہوں نے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور ساتھ ہی ساتھ وہ فری میسنری اور الومیناتی کا تجربہ بھی ساتھ لائے جس کو انہوں نے خوب استعمال کیا اور اپنے مقصد کے حصول کی کوششیں شروع کیں ۔ بالاخر۱۶جولائی۱۹۸۲ کی ویلہمسبیڈکے ایک اجلاس میں فری میسنری اور الومیناتی کے درمیان اتحاد قائم ہوا۔ اس اتحاد کی وجہ سے موجودہ دور کی تقریبا تمام خفیہ یہودی تنظیموں کو ملا دیا گیا اور ساری دنیا میں دجالی نظام کی برتری کے لئے مصروف عمل تیس لاکھ سے زائد پیروکار اس خفیہ دجالی مشن میں شامل ہوگئے۔ اس بھیانک اجلاس میں جو کچھ منظور کیا گیا یہ تو شائد باہر کی دنیا کبھی نہیں جان سکے گی، کیونکہ جو لوگ غیر شعوری طور پر اس تحریک کا حصہ بن گئے تھے، انہوں نے بھی اپنے بڑوں سے عہد کر لیا تھا کہ وہ کچھ بھی ظاہر نہیں کریں گے ۔
ایک شریف فری میسن جس کا نام کومٹ ڈی ویرا تھا جب پوچھا گیا وہ اپنے ساتھ کیا خفیہ معلومات لایا ہے تو اس نے محض یہ جواب دیا:
’میں اسے آپ کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتا ہوں ، میں بس اتنا کہ سکتا ہوں کہ یہ اس سے بہت ذیادہ سنگین ہے جتنا کہ تم سمجھتے ہو۔ اس سازش کے جال کو اتنی اچھی طرح سے بنا گیا ہے کہ بادشاہتوں اور گرجا گھروں(کلیسا) کا اس سے بچنا ناممکن نظر آتا ہے۔(وہیسڑ ، ورلڈ روروشن)
اس تحریک کے چند سال بعد یورپ میں یہود کو وہ تحفظ اور سکون ملنا شروع ہو گیا جس کا اس سے پہلے تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس سے پہلے غیر یہودیوں کا میسنری کی تحریک کا ممبر بننے پر پابندی تھی جس کو اٹھا لیا گیا ، لیکن سب سے اہم فیصلہ یہ کیا گیا تھا کہ الومیناتی کی غلام فری میسنری کا صدر دفتر فرینکفرٹ منتقل کر دیا گیا جو خود یہودی سرمایہ کاروں بالخصوص بینکاروں کا گڑھ تھا۔
دنیا پر قبضے کا الومیناتی منصوبہ :
یورپ کی معیشت کو پوری طرح اپنی گرفت میں لینے کے بعد الومیناتی دجالیوں نے اس بات کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا کہ دنیا کو اپنے غلام بنانے کے لئے اپنے دائرہ اختیار کو پوری دنیا میں پھیلا دیا جائے۔ چند دہائیوں کے بعد یہ بات ظاہر ہونا شروع ہوگئی کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے پوری دنیا میں جنگوں کا ایک سلسلہ چھیڑنا پڑے گا جس کی مدد سے اولڈ ورلڈ آرڈر(پرانے ورلڈ آرڈر)کا خاتمہ کیا جائے گا جبکہ نیو ورلڈ آرڈر (نیا عالمی نظام)کے قیام کو ممکن بنایا جائے گا۔ اس پورے منصوبے کو واضح شکل میں البرٹ پائیک نے پیش کیا جو کہ فری میسنری کے اینشینٹ اور ایکسیپٹڈ سکاٹش رائٹ میں ساورن گرینڈ کمانڈر کے کے درجے پر فائز تھا جبکہ یہ امریکا میں سب سے بڑا الومیناتی تھا۔ اس شخص نے اپنے گوسسیپی میزینی کے نام خط میں اس طرح سے لکھا تھا (خط کی تاریخ اگست ۱۸۷۱ء تھی )
’پہلی بین الاقوامی جنگ اس لئے چھیڑنی ہوگی تاکہ روس کو تباہ کیا جاسکے اور اس پر الومیناتی ایجنٹوں کی حکومت قائم کی جاسکے۔ روس کو بعد میں ایک خطرناک ملک کی شکل دی جائے گی تاکہ الومیناتی کا پلان آگے بڑھایا جاسکے ۔
دوسری جنگ کے دوران اس کشمکش سے جو کہ جرمن قوم پرستوں اور سیاسی صیہونیوں کے درمیان پائی جاتی ہے ، فائدہ اٹھانا ہو گا ۔ اس جنگ کے نتیجے میں روس کے اثر رسوخ کو بڑھایا جائے گا اور ارض فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کو ممکن بنا دیا جائے گا۔
جبکہ تیسری جنگ کی منصوبہ بندی اس طرح سے کی گئی ہے کہ الومیناتی ایجنٹ صیہونی ریاست اور عربوں کے درمیان اختلافات کو ہوادی جائے گی ۔ یہ جھڑپ ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے گی اور اس کے ذریعے بے دین دہریوں کو سامنے رکھ کر ایک انقلابی تبدیلی لائی جائے گی جس سے تمام معاشرے متاثر ہوں گے ۔ اس جنگ میں لادینیت اور وحشیوں کے انقلاب کو اتنی بھیانک طرح سے دکھایا جائے گا کہ لوگ اس سے پنا ہ مانگے گیں اور ان تمام چیزوں کو تباہ کرنے کی کوشش کریں گے جو ان انقلابیوں سے منسلک ہوگی ۔ حتی کہ وہ عیسائیت اور دوسرے مذاہب کو بھی انتشار کا شکار پائیں گے اور اس وجہ سے وہ تمام مذاہب پر چڑھ دوڑیں گے، جس کے بعد وہ خود کو صحیح راستہ لوسیفر کے صاف اور روشنی بھرے راستے میں پائیں گے۔ اس طرح سے ہم ایک ہی وقت میں عیسائیت اور لادینیت دونوں پر قابو پالیں گے۔‘
البرٹ پائیک کی شخصیت اور اس کے مذہب کے فلسفے کے اصول کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی درج ذیل تحریر پر غور کرنا چاہئے جس کا نام ہے ’مورالز اور ڈوگما ‘(سبق اور نظریہ) اس کو اس نے ۱۸۷۱ء میں تحریر کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس کے چند احکامات ہیں جو اس نے اپنی تئیس سپریم کونسلوں کو دیے تھے۔ یہ احکامات اس نے ۱۸۸۹ء میں بیسٹل ڈے کے موقع پر دئے تھے۔ شیطانی دماغ رکھنے والے اس شخص کی یہ انسانیت سوز تحریر ملاحظہ فرمائیں۔
’طاقت لگام کے ساتھ ہو یا بے لگام ، یہ اسی طرح ضائع ہو جاتی ہے جس طرح بارود کھلی فضا میں صرف جل سکتا ہے۔ اسی طرح جس طرح بھاپ ٹیکنالوج کے بغیر ہوا ہی میں اڑ جاتی ہے اور اپنے آپ کو ختم کر لیتی ہے۔ یہ صرف تباہی اور ضیاع ہے نہ کہ ترقی اور خوشحالی۔
لوگوں کی طاقت وہ چیز ہے جس کو ہمیں بہترین طریقے سے استعمال کرنا ہے اور اس کو قابو میں کرنا ہے۔ اسکو دانش و عقل کے ساتھ لگام دینا ہے۔ انسانی نسل کے چاروں طرف سے تنے ہوئے توہم پرستی ، تعصب اور جہالت کے مفروضوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لئے اس طاقت کا ایک ہی دماغ اور قانون ہونا چاہئے، تب ہی جا کر ہمیں مستقل نتائج مل سکتے ہیں اور تب ہی صحیح معنو ں میں ترقی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد نرم فتوحات ( چھوٹی اور آسان فتوحات) کا نمبر آتا ہے جب تمام طاقتوں کو ملایا جاتا ہے اور اس کو دانشوروں کے ذریعے(جو کہ روشن دماغ ہوں یعنی ایلومینیٹڈہوں )اور دائیں بازو کے قوانین اور انصاف کے علاوہ ایک باضابطہ تحریک اور محنت کے ذریعے لگام دی جائے گی۔ پھر وہ انقلاب جو ہم نے کئی زمانوں سے تیار کر کے رکھا ہواتھا شروع ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقت بے لگا م ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انقلاب اپنے ساتھ ناکامی لاتا ہے۔ ‘
(مورالز اینڈ ڈوگما ، پیرصفحہ ۱تا ۲)
یہ شخص اپنے خدا اور اپنے مذہب کا تعارف کرتے ہوئے کہتا ہے:
’ہم عوام الناس سے یہ کہتے ہیں:’ہم ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن یہ وہ خدا ہے جس پر ہم سب بغیر توہمات کے یقین کرتے ہیں۔ میں تم ساورن گرینڈ انسٹرکشن جنرل سے کہتا ہوں کہ تم یہ اپنے تیس ، اکتیس اور بتیس ڈگریوں کے بھائیوں کے سامنے یہ بات دہرانا:
’میسونک(فری میسن) مذہب کے تمام اونچی ڈگری کے ممبروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مذہب کو اس خالص شکل میں برقرار رکھا جائے لوسیفر(یعنی شیطان) کے نظریے کو مد نظر رکھتے ہوئے۔‘
شیطان کے بارے میں یہ سفاک شخص کہتا ہے واضح رہے کہ شیطان کے لئے اس نے لوسیفرکا لفظ استعمال کیا ہے۔ (لوسیفرکے معنی ہیں: ابلیس ۔ انجیل کے انگریزی ترجمے میں ابلیس کے لئے یہی لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ راقم):
’اگر لوسیفرخدا نہ ہوتا تو کیاایڈونے(یعنی خیر کا خالق ، مراداللہ رب العالمین ہیں) جس کا کام ہی انسا ن سے نفرت ، سفاکیت اور سائنس سے دور رہنے کی تلقین ہے}یہاں وہ اس (یعنی شیطان کے بالمقابل خیر کے خالق) کے مظالم کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے{اس کے علاوہ ایڈونے اور اس کے پادریوں نے اس کا خاتمہ کیوں نہیں کر دیا (معاذاللہ!)
’ہاں لوسیفرہی خدا ہے اور بد قسمتی سے ایڈونے بھی خدا ہے۔ابدی قانون کے تحت ۔ کیونکہ روشنی کا تصور تاریکی کے بغیر نا ممکن ہے ، جیسے خوبصورتی کا بدصورتی کے بغیر اور سفید کا سیاہ کے بغیر ۔ اسی طرح ہمیشہ کے لئے دو خدا ہی زندہ رہ سکتے ہیں (معاذاللہ!) اندھیرا ہی روشنی کو پھیلاتا ہے۔ ایک موت کے لئے بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی گاڑی میں بریک کا ہونا ضروری ہوتا ہے(معاذاللہ!)
’شیطانیت کا نظریہ محض ایک افواہ ہے اور سچا خالص مذہب لوسیفر (ابلیس)کا مذہب ہے جو کہ ایڈونے کے برابر ہے(معاذاللہ!)لیکن لوسیفر جو کہ روشنی کا خدا اور اچھائی کا خدا ہے وہ انسانیت کے لئے محنت کر رہا ہیایڈونے کے خلاف جو کہ تاریکیوں اور برائی کا خدا ہے۔ (معاذاللہ!)
اوپر دی گئی تحریر سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ یہ فرقہ (الومیناتی )کس طرح سے شیطان کا پچاری ہے اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اب فری میسنری اور الومیناتی ایک ہی ہیں۔ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں ۔ گویا یہودیت کی تمام شاخیں واضح طور پر شیطان کا پیروکار بن کر شیطان کے سب سے بڑے آلہ کار دجال کے لئے کام کر رہی ہے۔
ٖٖایف بی آئے کا ایک سابق ایجنٹ ڈین سموٹ لکھتا ہے کہ ’امریکا میں خفیہ طور پر حکمران اس کونسل کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی ، لیکن۱۹۲۷ء میں جب راک فیلر خاندان نے اپنی دوسری فاؤنڈیشن اور ٹرسٹ کے ذریعے اس میں پیسہ بھرنا شروع کیا تو یہ امریکا کی سب سے طاقت ور اتھارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ۔ اس کا ثبوت کہ کونسل آف فارن ریلیشنز ایک خفیہ یہودی ادارہ ہے ، کہیں باہر سے مانگنے کی بھی ضرور ت نہیں۔ اندرونی گواہی کافی ہے۔ اس کی سب سے بڑی گواہی اور کیا ہو سکتی ہے کے ۱۹۶۶ء میں اپنی سالانہ رپوٹ میں فری میسن کے طرز پر خفیہ نظام کار کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے : ’اس کونسل کا ہر ممبر اپنی رکنیت کے توسط سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ کونسل کے کسی رکن کے کہنے کے علاوہ اگر کوئی بات جو کہ ڈسکشن گروپ اور کھانے کی میز یا دعوت میں کچھ بھی کہا گیا ہے وہ خفیہ نوعیت کا ہے اور اس کا انکشاف کسی بھی صورت میں کسی بھی غیر فرد کو اس چیز کی وجہ بن سکتا ہے کہ کونسل کے بورڈ اس کی رکنیت ختم کردیں ۔ کونسل کے قوانین کے تحت اور اس کی آرٹیکل ایک کے تحت۔‘
کونسل آف فارن ریلیشنز کے ایک بورڑ کے ڈایریکٹروں میں سے ایک نے کرسچن سائنس مانیٹر کو دئیے گئے ایک بیان یکم ستمبر۱۹۶۱ء میں کہا تھا:
سی ایف آرمیں نمایا ں افراد میں سفارتی ، حکومتی ، تجارتی ، بینکروں، مزدور، صحافی ، وکیل اور تعلیم کے شعبوں سے منسلک نمایاں افراد ہیں اور ان سب کو مدنظر رکھ کر امریکی خارجہ پالیسی کا رخ متعین کیا جا تا ہے۔ ‘
یہی نہیں بلکہ پچاس کی دہائی سے لے کر اب تک جتنے بھی اہم حکومتی مشیر اور سیکریٹری گزرے ہیں وہ سی ایف آرکے کبھی نہ کبھی رکن ضرور تھے، خاص طور سے بش انتظامیہ میں تو اس کی بھرمار ملے گی۔ اسی طرح امریکی ایوان نمائندگان کے ایک رکن جان ریریک نے ۲۸اپریل ۱۹۷۲ء میں کہا تھا :
سی ایف آرایک اسٹیبلشمنٹ ہے جس کے افراد اوپر سے مشیروں اور سیکریٹریوں کے ذریعے دباؤ ڈالتے ہیں ۔ وہ ایسے لوگوں کو پیسے دیتی ہے اور فیصلہ کرنے والوں سے اپنے مطالبت نکلوا لیتی ہے۔ ‘
مشہور امریکی دانشور گرفن بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے: ’سی آئی اے درحقیقت سی ایف آرکی ہی ایک شاخ لگتی ہے جبکہ فرینکلن ڈی روسویلیٹ کے زمانے سے اب تک جتنے بھی امریکی انتظامیہ کے لوگ ہیں ان کا تعلق سی ایف آرسے ضرور رہا ہے۔ ‘
امریکا کی کہانی ایک خلاصہ :
آج کا ترقی یافتہ اور قابل رشک سمجھا جانے والا امریکی معاشرہ مسخ کردیا گیا ہے۔ اس کی اپنی سوچ نہیں ، اپنا اختیار نہیں ۔ اس کے نظام کو کھوکھلا کر دیا گیا ہے۔ جو کچھ بھی ہم دیکھ رہے ہیں وہ قومی سطح پر ہو رہا ہو یا پھر بین الا قوامی سطح پر وہ سب اس بڑے الومیناتی منصوبے کا حصہ ہے جو کہ یڈم ویرشیپٹ نے ۱۷۷۶ء میں پیش کیا تھا۔
یقین نہ ہو تو آئیے امریکا مخالف کمیونسٹ سسٹم کے اہم رکن کی ایک پیش گوئی کو دیکھتے ہیں۔ ایک حیرت انگیز سیاسی پیش گوئی ۱۹۲۰کی دہائی میں نکیلے لینی نے کی تھی جو کہ کمیونسٹ روس کی حکومت کا ایک اہم رکن تھا ، اس نے کہا تھا:
’سب سے پہلے ہم مشرقی یورپ کو قابو کریں گے اس کے بعد ایشیا کے عوام اور پھر ہم امریکا کو اس طرح گھیرے میں لیں گے جو کہ سرمایہ داری کا آخری قلعہ ہوگا اور ہمیں اس پر حملہ نہیں کرنا ہوگابلکہ وہ ایک بہت زیادہ پکے ہوئے پھل کی طرح سے خود ہی ہمارے ہاتھوں میں گر جائے گا‘۔
اگرچہ اب روس ٹوٹ چکا ہے لیکن اب ذرا اسی بیان کو اس بیان کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں جو کہ ۱۹۶۲ء میں دجالی ریاست اسرائیل کے پہلے صدرڈیوڈ بن گوریان نے دیا۔ اس بیان کے بین السطور میں ’عالمی دجالی ریاست‘کے قیام کا عزم اور اس کا خاکہ واضح طور پر بھانپا جا سکتا ہے۔
’سوشلسٹ بین الاقوامی اتحاد جس کے پاس ایک بین الاقوامی پولیس فورس ہو گی اور اس کا مرکز القدس (یروشلم) ہوگا۔ ۱۹۸۷میں میرے ذہن میں دنیا کا نقشہ کچھ اس طرح سے ہوگا۔ سر د جنگ ماضی کا ایک قصہ ہوگی جبکہ اندرونی دباؤ اور دانشور طبقے کی صورت میں اوپر سے دباؤ کی وجہ سے سوویت یونین آہستہ آہستہ جمہوریت کے سفر پر گامزن ہو جائیگا جبکہ دوسری طرف امریکا پر محنت کشوں اور کسانوں اور سائنسدانوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اہمیت کی وجہ سے امریکا ایک خوشحال ریاست میں تبدیل ہو جائیگا جس کی معیشت ایک پلینڈ اکانومی کی طرح ہوجائے گی (روسی طرز کی) مشرقی اور مغربی یورپ میں نیم آزاد کمیونسٹ اور خود مختار جمہوری حکومتوں کی شکل میں ہوگاجبکہ روس کے علاوہ تمام کے تمام ممالک ایک بین الاقوامی اتحاد کا حصہ ہوں گے جس کے پاس ایک بین الاقوامی پولیس فورس ہوگی۔ ساری فوجوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ یروشلم میں اقوام متحدہ (صحیح معنوں میں اقوام متحدہ) اور ایک پور نظام بنا یا جائے گا جس میں تمام ممالک کی یونین شامل ہوگی جو کہ ساری انسانیت کی سپریم کورٹ ہو گی تاکہ اس سے اپنے تمام اختلافات ختم کیے جاسکیں جیسے کہ پیش گوئی کی گئی تھی۔ ‘
(اے ایس صفحہ ۵۸ تا ۶۰)
ڈیوڈ بن گوریان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے غور کیا جائے تو امریکا اپنی اندرونی معیشت کو سبسڈی دینے والا سب سے بڑا ملک ہے خصوصا زراعت کے شعبے میں ۔ واضح رہے کہ اس نے یہ پیش گوئی ۱۹۶۲ء میں ہی کر دی تھی ۔ پھر اقوام متحدہ کی ایک الگ پیس کیپنگ فورس پر بھی نطر دوڑانی چاہئیے۔ ’اقوام متحدہ نے نئے عالمی نظام(نیو ورلڈ آرڈر)کی تکمیل نہیں بلکہ اس کی شروعات کی ہے۔ اس کا بنیادی کردار یہی تھا کہ ایسے حالات پیدا کر دئیے جائیں جن کی مدد سے اس سے بھی زیادہ ایک منظم تنظیم کو نئی شکل دی جائے۔ ‘ یہ الفاظ کسی اور کے نہیں بلکہ آئزن ہاور کے پہلے سیکریٹری کے ہیں جس کا نام جان فوسٹر ڈیولزتھا ۔
(وار آر پیس ، میک ملن ، ۱۹۵۰ صفحہ ۴۰)
یواین اوکی تمام ایجنسیاں خاص طور سے ایک ہی مقصد کے لئے کام کرتی ہیں یعنی نیو ورلڈ آرڈر کے قیام کو آگے بڑھا یا جائے۔ اسی طرح خلیج کی جنگ میں جو کہ ۹۱ ۱۹۹۱ء میں لڑی گئی تھی امریکی صدر جارج بش نے اس وقت صاف صاف کہا تھا کہ وہ نئے عالمی نظام اور اس کے مقصد کو آگے بڑھائیں گے۔ گویا اب ہمیں صاف پتا چل گیا ہے کہ اس انتشار اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ کیا ہے ۔ آج جو کچھ ہم اکیسویں صدی میں دیکھ رہے ہیں ، بیسویں صدی میں اس کی پوری پلاننگ کی گئی تھی۔ انسانی ریوڑ کو ایک لمبے دورانیے کے قومی اور بین الاقوامی بحرانوں کی طرف ہنکا یا گیا تاکہ نئے عالمی نظام نیو ورلڈ آرڈرکو قائم کیا جاسکے۔
الومیناتی کے رہنما تھوڑے ہیں لیکن ان کا گروپ بہت زیادہ طاقتور ہے جس میں بین الاقوامی بینکر ، سرمایہ دار ، سائنسدان ، عسکری اور سیاسی رہنما ، تعلیم کے ماہر اور معیشت دان شامل ہیں۔ یہ سب مل کر لوگوں کو سیاسی ، سماجی ، نسلی ، معاشی اور مذہبی گروہوں کی بنا پر بانٹتے ہیں ۔ وہ ان گروپوں کو ہتھیار بھی دیتے ہیں اور پیسہ بھی تاکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف ہو جائیں اور آپس میں لڑ پڑیں ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کہ انسانیت اپنی تباہی کی طرف خود ہی چلی جائے اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک کہ تمام دینی اور سیاسی ادارے تباہ نہ ہو جائیں اور کرہ ارض کا اقتدار بلا شرکت غیرے ان کے پاس نہ آجائے۔
اگر کوئی اس سب کو یہودی سازش کہے تو یہ کچھ غلط نہ ہو گا بلکہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ حقیقت کو چند الفاظ میں سمیٹ دیا جائے۔ یہ واضح طور پر ایک شیطانی سازش ہے اور زمین پر اس سازش کے نمائندے یہودی ہیں کیونکہ اس کو بنانے والے کارل مارا، واربرگ ویرشپیٹ اور روتھس چائیلڈ اور جیکب شف وغیرہ سب کے سب یہودی تھے۔
بین الاقوامی سازشوں پر لکھنے والے زیادہ تر مصنفین سے سب سے بڑی غلطی یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے دشمن کی فطرت کو صحیح معنوں میں نہیں بیان کر تے۔ دنیا کے زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لوگ ایک ایسی جنگ میں مبتلا ہیں جو ان کے خون اور گوشت (یعنی جسموں) کے خلاف ہے جبکہ وہ اس بات کو مسترد کر دیتے ہیں کہ ان کا اصل دشمن شیطان اور اس کے شطونگڑوں کا جتھہ ہے جو کہ اس دنیا میں اندھیروں کے بادشاہ اور برائی کے مرکز ومحور دجال اکبر کی مطلق العنان حکمرانی کے لئے کام کر رہا ہے۔‘
اسی غلطی کی وجہ سے امریکا کے معتدل مزاج لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سازش کا مقابلہ محب وطن امریکی اس وقت کر سکتے ہیں جب وہ کانگریس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیں اور جب نئے پر زور آواز ، اچھی طرح سے علم رکھنے والے ، اچھی ذہنیت والے سیاسی رہنما جنہوں نے اس پر کام بہت پہلے سے کیا ہو ، اس عالمی نظام اور سازش پر پوری طرح سے حملہ کر دیں۔
انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ایک سیاسی یا پھر کسی مادی دشمن کا مقابلہ نہیں کر رہے بلکہ ان کا اصل دشمن تو شیطان یا (لوسیفر) ابلیس ہے جو کہ الومیناتی کا خدا ہے ۔ الومیناتی ابلیسی سازش ہے۔ بہت بڑے درجے پر اس ابلیسی سازش کے بانیوں کے بارے میں کوئی شک نہیں کہ وہ ابلیس سے براہ راست رابطے میں ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کہ خفیہ شیطانی تنظیموں کے مختلف درجوں سے گزرتے ہوئے اب دجال کے کارندے کہلاتے ہیں اور دنیا کو ایک زبر دست بحران کی طرف لے جانے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس کی تہ سے اپنے جھوٹے خدا کی حکمرانی کی راہ ہموار کر سکیں ۔ یہ شیطانی طاقت جس میں بدی ہی بدی ہے، اس کو صرف ایک روحانی قوت ہی توڑ سکتی ہے جس کے پاس اس سے بھی زیادہ اختیار اور طاقت ہو اور کسے شبہ ہے کہ عظیم شیطانی طاقت کے حامل ملعون شخصیتوں ابلیس اور دجال کے مقابلے کی طاقت اللہ تعالی نے حضرت عیسی ٰعلیہ السلام اور حضرت مہدی کو دی ہے۔ محب وطن اور منصف مزاج امریکی ہوں یا کوئی اور، اگر وہ اس سازش کا توڑ کرنا چاہتے ہیں ، جس نے امریکہ کو اور اس کے توسط سے پورے کرہ ارض کو جکڑ لیا ہے اور جو صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ، پورے عالم انسانیت کے خلاف بھیانک منصوبہ ہے تو انہیں ان روحانی شخصیتوں کی پیروی کرنا پڑے گی جن کے ہاتھوں اللہ رب العزت انسانیت کو اس عظیم فتنہ سے نجات دلائے گا۔
مولانا عاصم عمر کی کتاب ’عالمی دجالی ریاست ، ابتدا سے انتہا تک ‘ سے اقتباس

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: